لسانیات
صدق وکذب :دروغ بافی کاصدورزبان سے ہوتوتاہے ،زبان کی حفاظت سخت ضروری ہے اس کاصحیح استعمال کبھی ایک بے علم وادنی آدمی کو بلند مراتب پرفائزکردیتاہے اورکبھی یہی زبان معززومکرم ،بلندوبالالوگوں کوذلت وپستی کی طرف کھینچ لے آتی ہے ۔جھوٹ تمام باطنی بیماریو ں کی جڑہے ،جھوٹ اتنی بری چیزہے کہ اسے نفاق کی خصلتوں میں اول ترین خصلت شمارکیاگیاہے۔جیساکہ اوپر گزرا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
صداقت و راست بازی کولازم پکڑو،کیوں کہ راست بازی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے ،اوریقینانیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے ،اورآدمی سچ بولتاہے ، اورسچائی کا قصدکرتارہتاہے،یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیق لکھاجاتاہے ،اوراپنے آپ کودروغ گوئی وجھوٹ سے بچاؤ،کیو ں کہ دروغ گوئی بدی کی طرف لے جاتی ہے اور بدی جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔آدمی جھوٹ بولتاہے ، جھوٹ کی طرف مائل رہتاہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کذاب لکھاجاتاہے ۔(۳۵)
غیبت وچغلی:حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضورﷺسے دریافت کیاکہ غیبت کیاہے ؟تو آپ نے فرمایاتمہاراتمہارے بھائی کواس چیز کے ساتھ ذکرکرناجسے وہ ناپسند کرتاہے ۔پھرعرض کیا:اگر چہ میری بات اس کے بارے میں حق ہو؟آپ نے فرمایا:اگرتمہاری کہی ہوئی بات اس میں پائی جاتی ہے تو تم نے اس کی چغلی کھائی ہے، اوراگروہ بات اس کے اندرنہیں ہے تو تم نے اس کے اوپر بہتان باندھا ہے ۔(۳۶)
ایک دوسری حدیث میں غیبت کی خرابی کوبیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:
غیبت زناسے بھی زیادہ بد ترہے ،لوگوں نے عرض کیا:یارسول اللہ!ﷺیہ کیسے ہوسکتاہے ؟آپ نے جواب دیا:یقیناآدمی زناکرنے کے بعد توبہ کرلیتاہے تواللہ تعالیٰ اس کی تو بہ قبول فرمالیتاہے۔لیکن چغل خور تو اس کے لیے بخش نہیں ہے ،جب تک کہ اس کی غمازی اس کامغتب معاف نہ کردے۔(۳۷)
سب وشتم اورلعن طعن: اسی طرح زبان کے غلط استعمال میں سے سب وشتم ،لعن طعن،فحش گوئی کرنااورلایعنی باتوں میں پڑناہے ،یہ وہ خطرناک بیماریاں ہیں جوانسان کے اخلاق پرایک بہت بڑی بری گہری چھاپ چھوڑتی ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معلم کائنات ﷺنے فرمایا:
مسلمان کو گالی دینافسق ہے اوراس کو قتل کرناکفرہے ۔(۳۸)
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ حضورﷺنے فرمایا:
مومن نہ تو لعن طعن میں پڑتاہے ،اورنہ ہی فحش گوئی وکمینگی میں پڑتاہے۔ (۳۹)
مدح وستائش: زبان کے بے جااستعمال میں سے آج جوایک خوبصورت اندازمیں ایک مہلک وعام بیماری ہے وہ ہے اپنے مطلب کے لیے یادوسروں کواونچادیکھانے کے لیے ان کی بے جا مدح وسرائی کرنا۔
مقدادبن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورﷺنے فرمایا:
جب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پرمٹی ڈال دو۔ (۴۰)
ان تمام بیماریوں کاآسان علاج یہ کہ خاموشی کو ترجیح دی جائے۔آپ کامختصروجامع فارمولہ ہے ’’من صمت نجا‘‘جوچوپ رہا،نجات پایا۔
حضرت سہل بن سعدرضی اللہ عنہ رسول گرامی وقار ﷺسے روایت کرتے ہیں :
جومجھے اپنے منہ اوراپنی شرمگاہ کی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتاہوں ۔(۴۱)
صدق وکذب :دروغ بافی کاصدورزبان سے ہوتوتاہے ،زبان کی حفاظت سخت ضروری ہے اس کاصحیح استعمال کبھی ایک بے علم وادنی آدمی کو بلند مراتب پرفائزکردیتاہے اورکبھی یہی زبان معززومکرم ،بلندوبالالوگوں کوذلت وپستی کی طرف کھینچ لے آتی ہے ۔جھوٹ تمام باطنی بیماریو ں کی جڑہے ،جھوٹ اتنی بری چیزہے کہ اسے نفاق کی خصلتوں میں اول ترین خصلت شمارکیاگیاہے۔جیساکہ اوپر گزرا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
صداقت و راست بازی کولازم پکڑو،کیوں کہ راست بازی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے ،اوریقینانیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے ،اورآدمی سچ بولتاہے ، اورسچائی کا قصدکرتارہتاہے،یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیق لکھاجاتاہے ،اوراپنے آپ کودروغ گوئی وجھوٹ سے بچاؤ،کیو ں کہ دروغ گوئی بدی کی طرف لے جاتی ہے اور بدی جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔آدمی جھوٹ بولتاہے ، جھوٹ کی طرف مائل رہتاہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کذاب لکھاجاتاہے ۔(۳۵)
غیبت وچغلی:حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضورﷺسے دریافت کیاکہ غیبت کیاہے ؟تو آپ نے فرمایاتمہاراتمہارے بھائی کواس چیز کے ساتھ ذکرکرناجسے وہ ناپسند کرتاہے ۔پھرعرض کیا:اگر چہ میری بات اس کے بارے میں حق ہو؟آپ نے فرمایا:اگرتمہاری کہی ہوئی بات اس میں پائی جاتی ہے تو تم نے اس کی چغلی کھائی ہے، اوراگروہ بات اس کے اندرنہیں ہے تو تم نے اس کے اوپر بہتان باندھا ہے ۔(۳۶)
ایک دوسری حدیث میں غیبت کی خرابی کوبیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:
غیبت زناسے بھی زیادہ بد ترہے ،لوگوں نے عرض کیا:یارسول اللہ!ﷺیہ کیسے ہوسکتاہے ؟آپ نے جواب دیا:یقیناآدمی زناکرنے کے بعد توبہ کرلیتاہے تواللہ تعالیٰ اس کی تو بہ قبول فرمالیتاہے۔لیکن چغل خور تو اس کے لیے بخش نہیں ہے ،جب تک کہ اس کی غمازی اس کامغتب معاف نہ کردے۔(۳۷)
سب وشتم اورلعن طعن: اسی طرح زبان کے غلط استعمال میں سے سب وشتم ،لعن طعن،فحش گوئی کرنااورلایعنی باتوں میں پڑناہے ،یہ وہ خطرناک بیماریاں ہیں جوانسان کے اخلاق پرایک بہت بڑی بری گہری چھاپ چھوڑتی ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معلم کائنات ﷺنے فرمایا:
مسلمان کو گالی دینافسق ہے اوراس کو قتل کرناکفرہے ۔(۳۸)
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ حضورﷺنے فرمایا:
مومن نہ تو لعن طعن میں پڑتاہے ،اورنہ ہی فحش گوئی وکمینگی میں پڑتاہے۔ (۳۹)
مدح وستائش: زبان کے بے جااستعمال میں سے آج جوایک خوبصورت اندازمیں ایک مہلک وعام بیماری ہے وہ ہے اپنے مطلب کے لیے یادوسروں کواونچادیکھانے کے لیے ان کی بے جا مدح وسرائی کرنا۔
مقدادبن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورﷺنے فرمایا:
جب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پرمٹی ڈال دو۔ (۴۰)
ان تمام بیماریوں کاآسان علاج یہ کہ خاموشی کو ترجیح دی جائے۔آپ کامختصروجامع فارمولہ ہے ’’من صمت نجا‘‘جوچوپ رہا،نجات پایا۔
حضرت سہل بن سعدرضی اللہ عنہ رسول گرامی وقار ﷺسے روایت کرتے ہیں :
جومجھے اپنے منہ اوراپنی شرمگاہ کی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتاہوں ۔(۴۱)
No comments:
Post a Comment