تواضع انکسار

تواضع وانکساری : کسی صدقہ نے کبھی کسی مال سے کچھ نہ گھٹایا،عفوودرگزرکرنے والے کواللہ نے ہمیشہ عزت دی،اورجس کسی نے بھی اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع وانکساری کواختیارکیاتواللہ تعالیٰ نے اسے عزت پر عزت ہی دی۔(۲۹)
          حدیث میں آیاہے:
          جب تم تواضع کرنے والوں کودیکھوتوتم بھی ان کے لیے تواضع اختیارکرو،اورجب تم متکبرین کودیکھوتوتم بھی ان پر اپنی عظمت وبڑائی ظاہرکرو،اس میں ان کے لیے ذلت ورسوئی ہے ،اورتمہارے لیے اس کے بدلے میں صدقہ ۔(
۳۰)
غروروتکبر: غروروتکبر،بغض وحسدیہ وہ دل کی بیماریاں ہیں جوقلب وجگرکوگھایل کردیتی ہیں،اورانسانی برادری کے درمیان افتراق وانتشارکی آگ بھڑکاتی ہیں۔ سرور کائناتﷺنے ان تمام خطرناک امراض سے دوررہنے کی ہدایت فرمائی ہے۔تکبرانسان کی نیکیوں کواس طرح کھاجاتاہے جس طرح آگ لکڑی کو،تکبراتنی بری چیزہے کہ اسے ایمان کے مقابل کفروشرک کے ذمرے میں رکھاگیاہے۔
          وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگاجس کے دل میں ذرہ برابرتکبرہو ۔(
۳۱)
          وجہ یہ کہ بڑائی صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ،اسی کوزیب دیتی ہے۔ اگرکوئی بندہ تکبرکرتاہے تووہ گویااپنے آپ کوخدائے وحدہ لاشریک کے ساتھ شریک ٹھہراتاہے جوحرام سخت حرام ہے ،اللہ کوناپسند ہے۔
بغض وحسد:بغض وحسدآج اتنازیادہ عام ہوگیاہے کہ عوام سے لے کرخواص تک اس کے شکارہیں۔اوریہ مہلک بیماریاں آج ہمارے ملک میں زیادہ رائج ہوتی جارہی ہیں جن کے برے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔متعددلوگوں سے معلوم ہواکہ مصر ’’کعبۃ العلم ‘‘ہے ،اس دورقحط الرجال میں بھی وہاں سیوطی و قسطلانی وعسقلانی کی مثلالیں موجودہیں ۔ دکانوںاورہوٹلوں کے چلانے ولے حافظ قرآن مفتی اورحافظ حدیث ہوتے ہیں ،لیکن بغض وحسد کی خطرناک بیماریوں سے وہ لوگ کوسوں دوررہتے ہیں۔اخلاق حسنہ اورضیافت وتکریم کے پیکرہوتے ہیں ۔عوام کاحسدتوہے کہ ایک دوسرے کی ترقی و خوشحالی دیکھ کرانھیں صرف یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ ان کامحسودکیسے تنزلی کے شکارہوں؟اورخواص کا تکبروحسدیہ کہ وہ اپنے طورپرسب سے بڑے ہیں،سارے علوم وفنون ان ہی کی شخصیات میں سمیٹ کررہے گیے ہیں،کسی دوسری جگہ خدمت انجام دینے والے ،درست راہ ، فکروسیع اورحالات کی سمجھ رکھنے والوں کی ان کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے ،ہرطرح کی سنی سنائی ہوئی باتیں ان کے وہاں اپنے محسودین کے خلاف دلیل بن جاتی ہیں ۔ حسد کی اگر دوسری شک ہی اپنالیتے توازحداچھا ہوتا؛وہ یہ ہے کہ دوسروں کی خوشحالی دیکھ کراپنی خوشحالی کی تمناکرے ،اوراللہ تعالیٰ سے دعاکرے کہ اے اللہ !تونے جس طرح فلاں کوشاداں وفرحاں رکھاہے اسی طرح مجھے بھی کردے ،اسے رشک کہتے ہیں ،اورتعلیمات محمدیہ میں اس کی اجازت ہے۔
          حضرت سالم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا:
          رشک وحسد صرف دوہی آدمی میں جائز ہے :(
۱)ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کاعلم عطافرمایا،اوروہ رات ودن کی گھڑیاں قرآن کی محافظت میں گزارتاہے۔(۲)اوروہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے دولت وثروت سے نوازا،اوروہ اسے (فی سبیل اللہ)رات ودن صرف کرتارہتاہے۔(۳۲)
غیظ وغضب: عوام طبقہ کاایک عمومی مرض ہے غصہ کرنا،کچھ لوگوں کو بات بات پرغصہ بہت آتاہے ،بسااوقات گالی گلوچ اورجھگڑاسے بھی تجاوزکرکے توڑپھوڑمچاتے ہیں اوربعدمیں پھراس پرہاتھ ملتے ہیں۔آقاعلیہ السلام غصہ کوٹھنڈاکرنے کے بارے میں ارشادفرماتے ہیں:
          جب تم میں سے کسی کوکھڑے ہونے کی حالت میں غصہ آئے تواسے بیٹھ جاناچاہیے ،اگراس سے غصہ دورہوجائے توٹھیک ہے،ورنہ اسے چاہیے کہ وہ لیٹ جائے  (
۳۳)
         یہ بات پائے تحقیق کو پہنچی ہوئی ہے ،اورحالات ومشاہدات بھی اس پرگواہ ہیں کہ جوشخص غیظ وغضب زیادہ کرتاہے اس کی صحت بگڑجاتی ہے ، جبکہ حقوق انسانی کے ذمرے میں بعض ایسے حقوق ہیں جن کی حفا ظت خود اپنے ذمہ ہوتی ہے،اور ان ہی میں سے’’ حفظان صحت ‘‘بھی ہے ۔
منافقت:جس میں چارخصلتیں ہوں تو وہ خالص منافق ہے ،اورجس آدمی میں ایک خصلت ہو تو ا س میں نفاق کی ایک خصلت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑدے :(
۱)جب بات چیت کرے تو جھوٹ بولے ۔(۲)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔(۳)جب معاہدہ کرے تو معاہدہ توڑدے ۔(۴)اورجب جھگڑاکرے تو حد سے تجاوزکرے  (۳۴)

No comments:

Post a Comment