غیبت
آج کل ہمارے معاشرے میں طرح
طرح کی شرعی اور سماجی مہلک برائیاں اور خرابیاں زوروشورکے ساتھ بڑھتی جارہی ہیں
،غیبت اور چغل خوری ان برائیوں میں سر
فہرست ہے۔
غیبت کسے کہتے ہیں ؟ :
شریعت کے نزدیک غیبت یہ
ہے کہ کسی کے برے وصف کو اس کے عدم
موجودگی میں زبان ،قلم ،حرکات وسکنات یا کسی اور طریقے سے اس طرح بیان کرنا کہ اگر
وہ سن لے تو اس کو ملال ہو ،شریعت کی روسے غیبت کہلاتاہے ۔چاہے اس کے بدنی یا نسبی
عیب کا ذکر کیا جائے یا اخلاق وعادات اور
اعمال وعبادات کے اعتبار سے اس کی کوتاہی بیان کی جائے حتیٰ کہ اس کے کپڑے ،
مکان اور جانور کے حوالے سے نقص ،بیان
کرنا بھی غیبت ہے ۔
لیکن کسی کا ایسا عیب بیان
کیاجائے جو اس شخص میں موجود نہیں ہے تو یہ غیبت اور چغل خوری نہیں اور یہ سارے
امور گناہ کبیرہ ہیں ۔
(1)غیبت بدن :
غیبت کرنا کسی کی بااعتبار
بدن کے ،مثلاکسی شخص کو ذلیل کرنے کی نیت سے کہنا کہ فلاں شخص ،بہت فربہ ہے ،بہت
پست قد ہے ، اس کی ناک بہت لمبی ہے ،یا اسکی آنکھ
بہت چھوٹی ہے ، یا وہ شخص نہایت سیاہ رو ہے ، یانہایت بہرا ہے ،یا وہ شخص
اندھاہے ، یااس کا قد طویل ہے ، یا اس کے اعضاء بڑے ہیں ، یا اسکی صورت بری ہے ، اسی طرح بدن کے عیوب
بیا ن کرنا اور اس شخص کی تحقیر کی نیت سے
اس پر ہنسنا یہ سب بدنی غیبتیں ہیں ۔
(2) غیبت نسب :
غیبت کرنا کسی کے نسب میں ، مثلا بہ نیت تحقیر کہناکہ فلاں شخص یا فلاں قبیلہ
،یا فلاں شہر کے لوگوں کا نسب اچھانہیں وغیرہ ۔
(3) غیبت اعمال وعبادات :
عبادات کے نقصان اور کمی میں
غیبت کرنا . مثلا یہ کہنا کہ فلاں شخص اچھی طرح نماز ادانہیں کرتا یاتہجد نہیں
پڑھتا یانوافل ادانہیں کرتا ، یارمضان المبارک کے روزوں میں کمی
کرتا ہے ، یانمازوں کو وقت مقررہ میں ادا نہیں کرتاہے ،
(4)غیبت لباس :
غیبت کرنا کسی کے لباس میں کہ فلاں شخص بخیل ہے ، بخیلوں
کا لباس پہنتا ہے ، یا اس کا پائجامہ
ٹخنوں سے نیچے لٹکتارہتاہے ،یا اس کا دامن لمباہے ، یا آستین بہت کھلی ہے ،
یا کپڑے بہت میلے ہیں ۔
! غیبت کی مذمت قرآن وحدیث
کی روشنی میں :
غیبت کی مذمت قرآن کریم کی
روشنی میں : (1)
غیبت کی حرمت ، قرآن کی آیات اور احادیث مبارکہ
سے ثابت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں واضح طور پر اس کی مذمت
فرمائی ، اور غیبت کرنے والے کو مردار کا گوشت کھانے والے کی طرح قرار دیاہے۔ارشاد
خداوندی ہے
"ولا یغتب بعضکم
بعضا ا
یحب احدکم ان یاکل لحم اخیہ میتا
فکرھتموہ "
(سورہ حجرات ، پارہ 26 آیت:
12)
ترجمہ : "اور تم ایک
دوسرے کی غیبت نہ کرو ، کیا تم میں کوئی
پسند رکھے گا کہ وہ اپنے بڑے بھائی کا گوشت کھائے ،تو یہ تمہیں گوارہ نہ ہوگا
"(کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن )
(2)! غیبت کی مذمت احادیث کی روشنی میں :
ابوہریرہ رضی اللہ
عنہ سے روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
" ہرمسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون ،مال اور عزت حرام ہے ۔اور کسی انسان
کی برائی کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے ۔ (سنن ابوداؤد
، ح: 4882،کتاب الادب ،باب فی الغیبۃ ،ص :
765، مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت )
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم سے دریافت کیا کہ غیبت کیا ہے ؟
آپ نے ارشاد فرمایا : "تو اپنےبھائی کا ایسے اندازسے تذکرہ کرے جواسے
ناگوارگزرے ۔
عرض کیا : جوبات میں کہہ رہاہوں اگر وہ میرے بھائی میں موجود ہے توآپ کا کیا خیال ہے ؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگروہ چیز جواس میں موجودہے جوتم کہہ
رہے ہو تو یہ غیبت ہے ۔ اور اگر یہ چیز اس میں نہیں جو تم کہہ رہے ہو تو یہ بہتان ہے ۔(سنن
ابوداؤد،ح : 4874،کتاب الادب باب الغیبۃ ص : 764 ،مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت )
بیہقی نے شعب الایمان میں ابوسعید وجابر رضی اللہ عنھما سے روایت کی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "غیبت ،زناسے بھی زیادہ سخت چیز ہے
۔
لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زناسے زیادہ سخت غیبت کیوں کر ہے ؟
فرمایا مرد ،زناکرتاہے ،پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیی اس کی توبہ کو قبول
فرماتاہے ،اور غیبت کرنے والے کی مغفرت اس وقت تک نہیں ہو گی جب تک وہ معاف نہ
کردے جس کی غیبت کی ہے ۔(شعب الایمان باب فی تحریم اعراض الناس ، ح : 6741،ج : 5،ص
: 306،بحوالہ بہار شریعت : ج سوم ،ص : 527،مکتبہ دعوت اسلامی پاکستان )
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"میں ، شب معراج ایسی قوم کے پاس سے
گزرا جواپنے چہروں کوں ناخنوں سے چھیل رہے
تھے ۔
میں نے کہا : " اے جبریل ! یہ کون لوگ ہیں ؟
انہوں نے کہا یا رسول اللہ یہ وہ لوگ
ہیں جو لوگوں کی غیبت کرتے تھے اور انکی عزتوں کے پیچھے پڑتے تھے ۔ (سنن ابوداؤد ،
ح :4878، ص : 765،کتاب الادب ، باب فی الغیبۃ
، مکتبہ دار الکتب العلمیہ ، بیروت )
ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی
ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ کو جب رجم کیا گیاتھا ، دوشخص آپس میں باتیں کرنے لگے
ایک نے دوسرے کہا اسے دیکھو کہ اللہ عزوجل نے اس کی پردہ پوشی کی تھی مگر اس کے نفس نے نہ چھوڑا ۔کتے کی
طرح رجم کیا گیا ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر
سکوت فرمایا ۔ کچھ دیر تک چلنے کے بعد ،راستے میں مراہواگدھا ملا ،جو پاؤں پھیلائے
ہوئے تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دوشخصوں سے فرمایا کہ
جاؤ اس مردا ر گدھے کاگوشت کھاؤ ۔
انھوں نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسے کون کھائے گا ؟
ارشاد فرمایا وہ جو تم نے اپنے بھائی کی آبروریزی کی وہ اس گدھے کے کھانے سے زیادہ سخت ہے ۔(سنن
ابوداؤد : کتاب الحدود ،باب رجم ماعز بن مالک ،ح : 4428،ص : 696،مکتبہ دارالکتب العلمیہ ،بیروت )
گوشت کھانے سے تشبیہ دینے کی وجہ:
آیت اور احادیث میں غیبت کی تشبیہ ،گوشت کھانے کے ساتھ دی گئی ہے ۔جس کی دو
وجہیں ہیں ۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ جس طرح کسی کا گوشت کھانے میں اس کی نہایت ذلت ہوتی ہے اسی
طرح اس کی غیبت میں بھی اس کی آبروریزی ہوتی ہے ۔لہذا جب کسی کی غیبت کی تو اس کو
اتنا ذلیل کیا گویا اس کا گوشت کھایا ۔اسی سبب سے غیبت کو گوشت کھانے کے مثل بتایا
گیا ۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ جس طرح آدمی کا یا مردار کا گوشت کھانا طبیعت کے بہت ہی
خلاف ہو تاہے ۔ہرشخص اسے پرہیز کرتاہے اسی طرح
غیبت بھی بری چیز ہے ۔لہذا ہر شخص پر لازم ہے کہ غیبت سے اپنی زبان کو بند
کرے ۔اور اپنے نفس کو روکے ۔
! غیبت کے اسباب :
1۔ غصہ اور غضب :
جب آدمی کسی پر خفا ہوتاہے تو اسکی
غیبت کرتا ہے ۔
2۔مخالفت کے سبب غیبت کرنا :
جس شخص نے کسی طرح کی تکلیف دی ہو اس پر خفاہونا ،اسی سبب سے اس کی غیبت کرنا
،لوگوں کے سامنے اس کے عیوب کوکھولنا ،اس لئے کہ اس نے تکلیف دی ۔لہذا اس کو بھی
تکلیف دیں گے ۔
3۔حسد کی وجہ سے غیبت کرنا :
جب انسان کسی سے حسد اور بغض رکھتاہے تو ہمہ وقت اس کی غیبت اور شکایت میں
اپنے اوقات گزارتاہے ۔
4۔بدگمانی رکھنا:
جب کوئی شخص کسی سے بدگمانی رکھتا ہے
تو اس کے عیوب بیان کرتا ہے اور اس کی ہر طرح سے غیبت اور شکایت کرتا ہے اور یہ بد
گمانی بھی ناجائز ہے ۔
5۔ نفس کی خوشی ،لوگوں کو ہنسانے اور
عورتوں کی دللگی کے واسطے غیبت کرنا :
جب ہم نشینوں کی مجلس گرم ہوتی ہے ۔لوگوں کے عیوب بیان کرکے لوگ ہنستے ہیں کہ
فلاں دیوانہ ہے ،فلاں بدصورت ہے ،فلاں خراب سیرت ہے ، اسی طرح ہر شخص کے عیوب کو
بیان کرکے لوگ ہنستے ہیں اور غیبت کرتے ہیں جوناجائزہے ۔
! غیبت کا کفارہ :
غیبت کرنے والے پر لازم اور واجب ہے
کہ وہ نادم ہو اور توبہ کرے اور اپنے فعل پر اظہار افسوس کرے ۔پھر اس سے معافی
مانگے جس کی غیبت کی ہے ،تاکہ زیادتی سے بری الذمہ ہو جائے اور
جب معافی مانگے تو غمگین اور افسوس کرنے
والاہو ، نیز اپنے فعل پر نادم ہو ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : غیبت کے کفارے میں سے یہ ہے کہ اس کے
لیے دعاے مغفرت کرے ، جس کی تونے غیبت کی ہے،
کہے :الٰہی ! ہم کو اور اس کو بخش دے ۔(مرآۃ شرح مشکوۃ المصابیح ،ج ششم ،ص 487۔مترجم : مفتی احمد یار
خاں نعیمی ،مطبوعہ نعیمی کتب خانہ کراچی ، پاکستان (
! غیبت کے نقصانا ت :
غیبت کے اندر دینی اور دنیاوی دونوں قسم کے نقصانات ہیں ۔دنیاوی نقصان یہی ہے
کہ اس سے معاشرے میں لڑائی جھگڑا اور فساد جنم لیتے ہیں ۔اور اس کے دینی نقصانات ،مندرجہ ذیل ہیں
:
1۔ دعا کا قبول نہ ہونا :
جو شخص غیبت بہت کرتاہے وہ نادم بہت کم ہوتاہے ،اس لئے اس کی دعا قبول نہیں
ہوتی ۔
فقیہ ابواللیث ،تنبیہ الغافلین کے باب الحسد میں فرما تے ہیں :
تین آدمیوں کی دعا قبول نہیں ہوتی اور
ان کی عاجزی منظور نہیں ہوتی ۔ایک وہ شخص جوما ل حرام کھاتاہو ، دوسرا وہ شخص جو بکثرت
لوگوں کی غیبت کرتاہو ، تیسرا وہ شخص جو اپنے مسلمانوں سے حسد رکھتاہو ۔
2۔جنت میں سب سے آخر میں جانا اور دوزخ میں سب سے پہلے جانا :
حضرت کعب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ
میں نے کسی کتاب میں پڑھا جوشخص غیبت سے توبہ کرکے مرا وہ جنت میں سب سےآخر میں داخل ہوگا اور جو غیبت کرتے کرتے مرگیا وہ جہنم میں سب سے
پہلے جائے گا ۔(مکاشفۃ القلوب : ص163 )
3۔ نیکیوں کا قبول نہ ہونا :
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا :
آگ خشک لکڑیوں کو اتنی جلدی نہیں
جلاتی جتنی جلدی غیبت بندے کی نیکیوں کو
ختم کردیتی ہے ۔(الاسرار المرفوعہ، ص :206،ح : 809، بحوالہ احیاء العلوم ، ج سوم ،ص 328 )
No comments:
Post a Comment