1چہار انواع
چہار انواع کتاب سے ہم کچھ باتیں آپ کے نظر کرتے ہیں
﴿نماز﴾
نمازچار قسم کی ہوتی ہے ۔
﴿الف ﴾ عوام کی نماز ۔عوام کی نماز عادت کے طور پر ہے ۔
دوسرے کا کہنا ہے ،نہ ہمیں شستن برخاستنت ہست نماز
دل چو ں حاضرنہ بود جنبش بیکار چہ سود ،
لاصلاۃ الا بحضورالقلب
﴿ب ﴾عابد کی نماز۔
عابد عبادات کو صلواخمسکم کے حکم سے ادا کرتے ہیں،
﴿ج ﴾سالک کی نماز۔
سالک کی نماز دائمی ہوتی ہے ان کی نماز سوتے جاگتے کبھی قضا نہیں ہوتی بلکہ
ہرلمحہ ولحضہ ادا ہوتی ہے ،
درکوئے خرابات کسے را کہ نیازست
ہشیاری ومستیش ہمہ عین نماز ست ۔
نہیں نہیں بلکہ
نماز عاشقاں ترک وجودست
﴿ج ﴾کامل کی نماز،
کاملین کی نمازنہ یہ ہے اور نہ وہ ،
قیام وقعدہ وتکبیرونیت
ہمہ محوست درعین معیت ۔
کامل کی نماز کو صرف اشاروں میں بیان کیا جاسکتا ہے ۔صاف صاف بتانے کی کسی میں
طاقت نہیں ۔یہ بات ذہن میں رہنا چاہئیے کہ
ولایت کے پانچوں مقامات میں جو حضرات کامل
ہیں وہ ہر جگہ ساجد بھی ہاور مسجود بھی ہیں یہی نماز اداکرنے والے قابل تعریف ہیں. اوراسی مقام سے صلواخمسکم کے اصل
معنی ظاہر ہوتے ہیں اس لیئے کہ یہ نماز پانچوں مقامات ولایت میں ہر ایک میں اپنا
مقام رکھتی ہے حسین منصور رحمہ اللہ علیہ ہر رات پانچ سو رکعات نفل پڑھتے تھے کسی
نے سوال کیا کہ آپ تو انا الحق کا دعوی کرتے ہیں ۔پھر نماز کس کے لیئے پڑھتے ہیں ؟
آپ نے جواب دیا ۔نماز خویش می گذارم
اورپھر ایسا کیوں نہ ہومعنوی منزلوں
کے سیاح جس جگہ بھی پہنچتے ہیں اس کے موافق کام کرتے ہیں ۔سرکار دوعالم ﷺ جب عالم
ناسوت میں جلوہ فرماہوئے تو راتوں میں
طویل قراءت سے بھی آسودہ نہ ہوئے ۔حتی تورمت قدماہ ۔
درہر پیر زن منیروپیمبر ،کہ اےزن کہ دردعاہا یا دم آور ،اورجس وقت حضور مقبول
ﷺ نے مقام علوی کو رونق بخشی اس وقت من رآنی فقد رائ الحق ، ارشاد فرمایا اور آپ
اسکے حقداربھی تھے کیوں کہ آپ ذات باری تعالی کے مظہر اتم ہیں اے اللہ کے رسول آپ
پر سلام ہو،
No comments:
Post a Comment