KalematulHaque

اسلامی کوئز، سیرت النبی ﷺ اور تاریخ اسلام کا مرکز

Asam

آسام میں 40 لاکھ لوگوں کی ہندوستانی شہریت کے حالیہ بحران کو سمجھنے کے لیے محترم المقام مولانا غلام مصطفی نعیمی
 Ghulam Mustafa Naimi
 کی یہ تحریر مکمل پڑھیں:
آسامی مسلمانوں پر خطرات کے بادل : ملت اسلامیہ کے لیے لمحۂ فکریہ!!!

تحریر : غلام مصطفیٰ نعیمی gmnaimi@gmail.com
مدیر : سہ ماہی سوادِ اعظم, دہلی.
نزیل حال : ساؤتھ افریقہ.


مسلمانان ہند آئے دن نِت نئے مسائل سے جوجھ رہے ہیں. ایک مسئلہ ٹھنڈا نہیں ہوتا کہ دوسرا مسئلہ منہ کھولے سامنے کھڑا ہوتا ہے. ایسا لگتا ہے کہ مسلم دشمن طاقتوں نے منصوبہ بندی کے ساتھ یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ مسلمانوں کو کسی بھی لمحے چین سے بیٹھنے نہیں دینا ہے. اسی لئے رہ رہ کر مختلف ایشوز اٹھا کر مسلمانوں کو ہراساں اور پریشان کیا جارہا ہے. ابھی گاؤکُشی کے نام پر قتل کئے گئے اکبر خان کے خون کے دھبے سوکھنے بھی نہ پائے تھے کہ صوبۂ آسام کے لاکھوں مسلمانوں کو این آر سی (NRC) کے تحت "مشتبہ" قرار دیکر ملک بدر کرنے کی دیرینہ پلاننگ پر عمل شروع ہوگیا ہے.

*کیا ہے این آر سی (NRC )؟*

این آر سی(National Register of Citizens ) یعنی قومی رجسٹر برائے شہریت.
آسام کی ایک انتہا پسند تنظیم آل آسام اسٹوڈینٹس یونین ( All Asam Students Union ) ہے جسے "آسو" AASU بھی کہا جاتا ہے. اس تنظیم اور حکومتِ ہند کے مابین 1984ء میں ایک معاہدہ ہوا. معاہدے کے تحت یہ طے پایا کہ ایک نیشنل رجسٹر تیار کرایا جائے گا. جن افراد کے نام اس رجسٹر میں درج ہوں گے وہی آسامی اور ہندوستانی شہری تسلیم کیے جائیں گے اور جن افراد کے نام اس رجسٹر میں درج نہیں ہوں گے وہ غیر ملکی مانے جائیں گے.

*کیا ہے آسام معاہدہ؟*

انتہا پسند تنظیم آسو (AASU) آل آسام اسٹوڈینٹس یونین نے دیگر صوبوں سے آکر آباد ہوئے لوگوں کو باہر نکالنے کے لیے ایک زبردست مہم چھیڑی. اور یہ مہم چھ سال تک چلی. یہ مہم انتہائی جارحانہ اور تشدد پر مبنی تھی. آسام میں آباد بہار، بنگال، راجستھان وغیرہ کے لوگوں کو اس تنظیم نے خوب نقصان پہنچایا.
1985ء میں وزیر اعظم راجیو گاندھی نے اس تنظیم سے ایک معاہدہ کیا. جس کے تحت ان کے مطالبات منظور کیے گئے. بعد میں اس تنظیم نے "آسام گن پریشد" (असम गण परिषद ) کے نام سے اپنی سیاسی ونگ بنائی اور صوبہ میں حکومت بھی بنائی. اسی تنظیم سے ہوئے معاہدہ کو "آسام معاہدہ" کہا جاتا ہے. اس معاہدے میں اتفاق رائے سے یہ مطالبات منظور کیے گئے:
🔹1951ء سے 1961ء کے درمیان آسام میں آنے والے تمام لوگ مکمل طور پر آسامی اور ہندوستانی شہری تسلیم کیے جائیں گے.
🔹1961ء سے 1971ء کے درمیان آنے والے لوگ ہندوستانی شہری تو مانے جائیں گے لیکن انہیں ووٹ دینے کا حق نہیں ہوگا. ایسے لوگ خود کو رجسٹرار کے پاس رجسٹرڈ کرائیں گے اور اگلے دس سال کے بعد انہیں ووٹ دینے کا حق دیا جائے گا.
🔹آسامی لوگوں کی فلاح کے لیے علاقائی کونسل بنائی جائیں گی.
🔹شہریت کے ثبوت کے لیے ایک نیشنل رجسٹر (NRC) بنایا جائے گا جس میں سبھی کے نام درج ہوں گے. جس کا اندراج اس رجسٹر میں ہوگا وہ ہندوستانی شہری مانا جائے گا اور جس کا نام اس میں درج نہیں ہوگا اسے غیر ملکی مانا جائے گا.
آج اسی رجسٹر کی بنیاد پر 40 لاکھ سات ہزار سات سو سات(4007707) افراد کی ہندوستانی شہریت "مشتبہ" قرار دے دی گئی, جس میں قریب 30 لاکھ کی آبادی مسلمانوں کی ہے. حالانکہ اس تعداد میں راجستھان، بہار اور دیگر صوبہ جات کے لوگ بھی شامل ہیں لیکن آر ایس ایس نواز گودی میڈیا ایک سُر میں آسام کے مسئلے کو بنگلہ دیشی مسلمانوں سے جوڑ کر فرقہ وارانہ ماحول پیدا کر رہا ہے جب کہ زمینی صورت حال کچھ اور ہی ہے جس پر کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے.

*آسام کی جغرافیائی صورت حال*

آسام یوں تو خوب صورت پہاڑوں، ندیوں اور جھیلوں سے بھرا ہوا صوبہ ہے. لیکن حکومتوں کی بے توجہی سے یہ علاقہ ترقی میں پچھڑ گیا.
دیگر مشرقی صوبوں کی طرح آسام بھی ایک پچھڑا ہوا صوبہ ہے. آزادی کے بعد دہلی کی مرکزی حکومتوں کی توجہ نارتھ(شمالی)، ساؤتھ(جنوبی)، اور ویسٹ(مغربی) انڈیا کے علاقوں پر تو خوب رہی لیکن ایسٹ(مشرقی) اور نارتھ-ایسٹ(شمال-مشرقی) انڈیا کے علاقے دہلی حکومت کی بے رخی کا شکار رہے. جو علاقے عموما مرکزی حکومت کے منظورِ نظر رہے اُن میں بھی حکومت کی توجہ نارتھ اور ویسٹ پر ہی زیادہ مرکوز رہی کیوں کہ زیادہ تر سیاسی لیڈران انہیں علاقوں سے آتے تھے. اور دوسری اہم وجہ یہ تھی کہ انہیں علاقوں میں برہمن آبادی زیادہ تھی. اس لیے ان علاقوں کو مرکزی حکومت سے خوب فائدہ حاصل ہوا. جب کہ نظر انداز کیے گئے علاقوں میں عیسائی، مختلف قبائلی اقوام اور دیگر مقامی مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں اس لیے بھی شدت پسند ہندوؤں اور حکومتوں نے ان علاقوں سے زیادہ لگاؤ نہیں رکھا. اسی وجہ سے یہ علاقے ترقی کی دوڑ میں پچھڑتے چلے گئے. انہیں علاقوں میں آسام بھی شامل ہے.
آسام میں کئی ذاتوں، قبیلوں، اور مختلف برادریوں کے لوگ رہتے ہیں.جن میں بوڈو, آدِیوَاسی اور دیگر کئی نسلوں کے افراد ہیں.
ان سبھی کی زبان وتہذیب آسام کی مقامی زبان و تہذیب ہے. اس کے ساتھ آسام میں ایک بڑی تعداد بہار، بنگال، راجستھان اور دیگر علاقوں کے رہنے والے افراد کی بھی ہے. جن میں بڑی اکثریت مسلمانوں کی ہے.
انگریزی دورِ حکومت میں بنجر زمینوں کو آباد کرنے اور چائے باغات کی کاشت کرنے کے لیے برٹش گورنمنٹ نے بہار و بنگال اور راجستھان کے بہت سارے مزدوروں کو اس علاقے میں آباد کیا. شروع میں مقامی زمین داروں نے ان مزدوروں کا استقبال کیا. اس طرح اس صوبہ میں غیر صوبائی افراد کی آمد ہوئی اور پھر آہستہ آہستہ یہ لوگ تجارت وغیرہ میں داخل ہوگئے اور آگے چل کر ان کی نسلیں یہاں پر ہی بس گئیں.

*علاقائیت کا تعصب*

آزادی کے بعد مرکزی حکومت کی بے رخی اور روزگار کی کمی سے صوبہ میں بے اطمینانی بڑھ رہی تھی. اسی وقت کچھ مفاد پرست لوگوں نے بے روزگاری کا ٹھیکرا ان غیر آسامیوں پر پھوڑا جو کئی نسلوں سے یہاں آباد تھے. اس طرح علاقائیت کے نام پر یہاں کئی تنظیمیں وجود میں آئیں جن کا ایک ہی ایجنڈا تھا کہ آسام میں صرف مقامی لوگ ہی رہیں گے باقی لوگوں کو صوبہ سے نکالا جائے گا.
ان سارے معاملات کو سمجھنے کے لیے آسام کی زمینی حقیقت کو سمجھنا بڑا ضروری ہے, کیوں کہ آسام کی صورت حال اس قدر پیچیدہ ہے کہ معاملات کو شروع سے جانے بغیر آپ اندازہ ہی نہیں کر سکتے کہ اصل پریشانی کیا ہے؟

*آسام کے زمینی حقائق*

آزادی کے بعد ہی سے آسام میں کئی انتہا پسند تنظیمیں وجود میں آئیں. جنہوں نے پُرتشدد جدوجہد سے پورے صوبے کے امن وامان کو ختم کردیا. ان تنظیموں نے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اور جم کر قتل وغارت گری مچائی.
ان متشدد تنظیموں میں چند اہم نام یہ ہیں:
1- اُلفا. (United Liberation Front of Asam)
2-این ڈی ایف بی(N.D.F.B) یعنی نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ (National Democratic Front of Bodoland)
3-آسو ( All Asam Student Union) آل آسام اسٹوڈینٹ یونین.
ان میں سے پہلی دو تنظیمیں تو آسام کو ہندوستان کا حصہ ہی نہیں مانتیں اور اسے ہندوستان سے الگ ایک نیا ملک بنانے کی مہم چلاتی ہیں. اسی وجہ سے یہ تنظیمیں شہریوں کے ساتھ ساتھ فوجی دستوں اور غیر ملکی انجینئروں کو بھی نشانہ بناتی ہیں. اب تک یہ دونوں تنظیمیں ہزاروں شہریوں، فوجیوں اور انجینئروں کا قتل کر چکی ہیں اور ایک مرتبہ صوبہ کے وزیر اعلیٰ پر بھی قاتلانہ حملہ کیا تھا لیکن خوش قسمتی سے وزیر اعلیٰ بچنے میں کامیاب رہے.
آخزالذکر تنظیم (آل آسام اسٹوڈینٹ یونین) نے الگ ملک بنانے کی بات تو نہیں کی لیکن اس نے آسام میں مقیم تمام غیر صوبائی ہندوستانی افراد کو باہر نکالنے کی مہم چھیڑی.جس طرح ممبئی میں "شِو سینا اور راج ٹھاکرے" اُتّر-بھارتیوں کو باہر نکالنے کی سیاست کرتے ہیں. ٹھیک اسی طرز پر "آسو" نے یہ مہم چھیڑ رکھی تھی.
پہلی دونوں تنظیموں کا مقصد ہندوستان کا بٹوارہ تھا تو دوسری تنظیم کا مقصد غیر صوبائی لوگوں کو باہر نکالنا تھا.
اس پورے منظر نامے میں کہیں بھی مسلمان نظر نہیں آتے.
لیکن جب 1971ء میں مشرقی پاکستان الگ ہوکر ایک نیا ملک بنگلہ دیش بنا تو بہت سارے بنگلہ دیشی افراد فوجی کاروائی کی وجہ سے آسام میں داخل ہوگئے اور یہاں پناہ لی. جب ملک بن گیا تو یہ سب بنگلہ دیشی واپس ہوگئے.ہوسکتا ہے بعض افراد واپس نہ گئے ہوں لیکن آسام کی  معیشت ایسی نہیں ہے کہ کوئی ترک وطن کرکے مقیم ہونے کا غیر قانونی اقدام کرنے کی نادانی کرے گا.

*مسلمان ہی نشانہ کیوں؟*

آزادی سے پہلے غیر منقسم ہندوستان میں بنگال بھی اپنے مغربی اور مشرقی حصوں سمیت بھارت کا ایک حصہ تھا. 1947ء میں تقسیم کے بعد ایسٹ بنگال پاکستان کا حصہ بن کر "ایسٹ پاکستان" کہلایا اور "ویسٹ بنگال" ہندوستان میں شامل ہوگیا. 1971ء میں "ایسٹ پاکستان" "بنگلہ دیش" کے نام سے دنیا کے نقشے پر نئے ملک کے طور پر وجود میں آیا.
اِس طرح بنگال کی سرحدیں بھلے تقسیم ہوگئیں لیکن وہاں کا رہن سہن، کھان پان، عادات واقعات اور رسوم وتہذیب یکساں ہی رہیں. چاہے بنگلہ دیشی بنگالی ہو یا انڈین بنگالی, دونوں کی شکل صورت، بول چال اور کھانے پینے میں یکسانیت کا پایا جانا بالکل فطری ہے.
اب آسام میں انڈین بنگالی مسلمانوں کی بھی ایک اچھی خاصی آبادی رہتی ہے. یہاں پر آر ایس ایس RSS نے یہ فرقہ وارانہ چال چلی کہ "اُلفا" اور "این ڈی ایف بی" کی پُرتشدد کاروائی سے ذہن ہٹانے کے لیے "بنگلہ دیشی" کہہ کر مسلم بنگالیوں کو ٹارگیٹ کرنا شروع کیا تاکہ اس طرح تمام فسادات پر فرقہ واریت کا رنگ چڑھایا جاسکے. اور رائے عامہ کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا جاسکے. آر ایس ایس کی اِسی مسلم دشمن پالیسی کی وجہ سے 1983ء میں ایک بڑا قتلِ عام ہوا.

*نَیلّی قتل عام*

آسام کی انتہا پسند تنظیم آسو (آل آسام اسٹوڈینٹ یونین) اور دیگر قبائلی آدیواسی غنڈوں نے 1983ء میں الیکشن بائکاٹ کی مہم چلائی اور غیر صوبائی لوگوں کو دھمکیاں دیں کہ وہ بھی انتخابات سے دور رہیں ورنہ انجام برا ہوگا.
غیر صوبائی لوگوں نے الیکشن میں حصہ لے لیا جس کی وجہ سے یہ شدت پسند تنظیم مارنے کاٹنے کے لیے تیار ہوگئی. یہاں پر آر ایس ایس مشنری نے اپنا مسلم دشمنی کا ایجنڈا چلایا اور "آسو" کی مہم کو غیر صوبائی لوگوں سے ہٹا کر صرف بنگالی مسلمانوں کی طرف پھیر دیا. نتیجتاً 18فروری1983ء کو "نیلی" اور اطراف کے مواضعات "بسنتوری، بک ڈوبا، ہابی اور بوربوری" میں حکومت وانتظامیہ کی شہ پر آدیواسی قبائل اور آسو تنظیم کے غنڈوں نے حملہ بول دیا. اور محض سات گھنٹے کے مختصر سے وقت میں تین ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کر ڈالا !! گھروں کو آگ لگادی گئی !! پورے علاقے میں قیامت کا سماں تھا لیکن مظلوم وبے بس مسلمانوں کی فریاد سننے والا کوئی نہیں تھا !!
آزاد ہندوستان کا یہ سب سے بڑا قتل عام تھا. جس پر پوری دنیا چیخ پڑی. جس کی وجہ سے ملک کی وزیر اعظم اندرا گاندھی صدر مملکت گیانی ذیل سنگھ کے ساتھ آسام گئیں اور قاتلوں کو سخت سزا دینے کا اعلان کیا. لیکن اس ملک میں حکومت بھلے کسی کی رہی مسلمانوں کو انصاف کبھی نہیں ملا.
اس قتل عام کے ایک سال بعد ایک سِکھ کے ہاتھوں مسز اندرا گاندھی کا قتل ہوا اور ان کے بیٹے راجیو گاندھی وزیر اعظم ہوئے. راجیو گاندھی نے آسام کی اسی قاتل و انتہا پسند تنظیم "آسو" سے ایک معاہدہ کیا جو "آسام معاہدہ" کہلاتا ہے.

*بی جے پی کی کھلی مسلم دشمنی*

ایک طرف بی جے پی، آر ایس ایس اور دوغلا میڈیا بنگالی مسلمانوں پر "بنگلہ دیشی" ہونے کا الزام لگا کر "گُھس پَیٹِھیا" لفظ استعمال کر اپنی اوچھی ذہنیت کا ثبوت دیتے ہیں تو وہیں 2016ء میں بی جے پی نے اپنی مسلم دشمنی اور دوہرے معیار کے ساتھ ایک نیا "شہریت ایکٹ 2016" منظور کیا ہے جس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش وغیرہ سے آئے ہوئے غیر قانونی "ہندوؤں" کو (یعنی صرف ہندوؤں کو) باقاعدہ مکمل طور پر ہندوستانی شہریت دی جائے گی. !!
یعنی ایک بنگالی مسلمان کو زبردستی "گُھس پیٹھیا" (غیرقانونی طور پر ملک میں گھسنے والا) کہا جائے اور جو اصلی "گُھس پَیٹِھیے" ہیں انہیں ملک کا باعزت شہری بنایا جائے. !!
کیا اسی کا نام انصاف ہے؟
کیا یہی حب الوطنی ہے؟
اس بات کو مسلم قائدین خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ حب الوطنی اور انصاف صرف نعرے ہیں اور بی جے پی و آر ایس ایس کا واحد مقصد مسلمانوں کو ہر سطح پر ذلیل و خوار کرنا ہے.

*این آر سی پر ایک نظر*

این آر سی کو حکومتی ملازمین نے تیار کیا ہے. اور حکومتی ملازمین کے کام کرنے کا طریقہ کیسا ہے یہ بات ایک عام ہندوستانی بہت اچھی طرح جانتا ہے. امیدوں کے عین مطابق اس رجسٹر کے ساتھ بھی حکومتی ملازمین نے اپنی "دیرینہ روایت" برقرار رکھی ہے. اب ذرا ایک نظر اس رجسٹر پر ڈالیں اور اندازہ لگائیں کہ اس ملک میں کس طرح تماشا کیا جاتا ہے :
🔻 این آر سی ڈرافٹ میں انڈین آرمی کے رٹایرڈ آفیسر محمد اجمل حق کا نام شامل نہیں ہے. جو 30 سال انڈین آرمی میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور جے سی او(Junior Commssined Officer) کی پوسٹ سے رٹایر ہوئے ہیں. تماشا تو یہ ہے کہ 2016ء میں وہ اپنی 30 سال کی طویل فوجی خدمات سے رِٹائر ہوئے. اور ایک ہی سال میں یعنی 2017ء ہی میں اِنہی اجمل حق پر انتظامیہ نے "بنگلہ دیشی گھس پیٹھیا" ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اپنی شہریت ثابت کرنے کو کہا تھا. !!
اب آپ ماتھا پیٹتے رہیے کہ جو مسلم فوجی 30 سال سرحدوں کی حفاظت میں لگا رہا وہ "گھس پیٹھیا" ہے !! اور جو پاکستانی وبنگلہ دیشی ہندو گھس پیٹھیا بن کر آیا اسے عزت دار شہری بنانے کے لئے قانون سازی تک ہو چکی ہے. !!
🔻 آسام کی اکلوتی خاتون وزیر اعلیٰ رہیں محترمہ سیدہ انورہ تیمور اور ان کے اہل خانہ کے نام بھی NRC میں شامل نہیں ہیں !!
ان کا کہنا ہے کہ "یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ میرا نام تک لسٹ میں شامل نہیں ہے."
🔻 بی جے پی کے سینئر ایم پی "بجوئے چکرورتی" کے بھتیجے کا نام بھی اس لسٹ سے باہر ہے. !!
🔻 گواہاٹی کے اشوک اگروال کا نام بھی NRC میں شامل نہیں ہے. ان کا کہنا ہے کہ میرے والد 1959ء میں سیکر راجستھان سے یہاں آکر آباد ہوئے تھے. ہم نے سارے کاغذات جمع کرائے لیکن ہمارا نام لسٹ سے غائب ہے. !!
🔻 ڈبروگڈھ کے رہنے والے نرنجن بگڑیا کہتے ہیں کہ میرے پردادا قریب سو سال پہلے یہاں آباد ہوئے تھے. چار پیڑھی یعنی چار پشت سے ہم یہاں رہتے ہیں لیکن ہمارے پورے خاندان میں صرف ایک بہو کا نام شامل ہے باقی کسی کا نام نہیں ہے. !!
🔻 مظفرپور بہار کے رہنے والے لکھی ناراین رجک کے آدھے گھر والوں کے نام آئے اور آدھے لوگوں کے نام غائب ہیں. !!
یہ فہرست تو نمونہ بھر ہے ورنہ پوری لسٹ کا جائزہ لیا جائے تو آپ سر پیٹنے پر مجبور ہوجائیں گے. ان حکومتی اہلکاروں کی اس نااہلی کی وجہ سے کتنے لوگ اپنے ہی ملک میں اپنی پہچان ثابت کرنے کے لیے کس قدر مجبور بنا دیے گئے ہیں.

*کہاں ہیں مسلم تنظیمیں؟*

یہ مسئلہ کافی وقت سے چل رہا ہے. اور این آر سی ڈرافٹ کا کام بھی پچھلے تین چار سال میں بڑی تیزی سے ہوا. لیکن کسی مسلم تنظیم کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ آسام جاکر دور افتادہ دیہات میں رہنے والے غیر تعلیم یافتہ افراد کے کاغذی دستاویز درست کرانے یا بنوانے میں تعاون کرے.
آج بھلے ہی ساری مسلم تنظیمیں بی جے پی کو کوس رہی ہیں لیکن یہ کام اکیلے بی جے پی کا نہیں ہے بلکہ کانگریس بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہے.
تنظیموں کی بات کریں تو شاید ہندوستانی مسلمانوں سے زیادہ تنظیمیں کسی ملک میں نہ ہوں. یہاں ایک ہی خانقاہ میں اگر پانچ شہزادے ہیں تو پانچوں کی الگ تنظیم ملے گی. (ایک ہی تنظیم میں پانچوں صدر نہیں ہوسکتے نا!)
تنظیموں کے ذمہ داران کو چاہیے کہ ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں گیا ہے این آر سی کا فائنل ڈرافٹ دسمبر میں آئے گا. جن لوگوں کے نام آنے سے رہ گئے ہیں انہیں اپنی شہریت ثابت کرنے کا ایک موقع اور دیا جائے گا. اس لیے پہلی فرصت میں مِلّی تنظیمیں آسام جاکر مسلمانوں کے دستاویز درست کرانے میں جٹ جائیں ورنہ اگر آر ایس ایس وہاں اپنی چال میں کامیاب رہا تو ایسا ہی کھیل ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی مسلمانوں کے ساتھ کھیلا جائے گا مگر اس وقت تک ہم کچھ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوں گے.
ع:
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا.

غلام مصطفی نعیمی
مدیر: سہ ماہی سوادِ اعظم, دہلی.
نزیلِ حال : ساؤتھ افریقہ
5 اگست 2018 (اتوار)