معذرت
کے ساتھ ایک نا اہل نامہ
.......
لرزیدہ خیالات نے شرمندہ کیا ہے
اک بچی کے صدمات نے شرمندہ کیا ہے
اقبال
جسے اچھا کہے سارے جہاں سے
اس دیش کے حالات نے شرمندہ کیا ہے
اے
چائے فروش اوج وزارت سے اتر جا
اب تک تری اوقات نے شرمندہ کیا ہے
اس
ملک کے حالات ترے بس میں نہیں ہیں
کیا تجھ کو تری مات نے شرمندہ کیا ہے؟
بچی
کوئی محفوظ نہیں دیش کے اندر
بھکتوں کو بھی اس بات نے شرمندہ کیا ہے
تو
اہل وطن کیلئے پستی کا سبب ہے
بد ذات تری ذات نے شرمندہ کیا ہے
افسردہ
نگاہوں میں تڑپتے ہیں سوالات
اور تجھ کو جوابات نے شرمندہ کیا ہے
ہر
ایک زباں کہتی ہے مغرب کے چلن کو
بھارت کی روایات نے شرمندہ کیا ہے
منظور
تھی افراد کو تہذیب پرانی
تجدید رسومات نے شرمندہ کیا ہے
ہم
کو تو ضرورت نہیں ان اچھے دنوں کی
کیوں آپ کی خدمات نے شرمندہ کیا ہے ؟
قابل
نہ رہے منہ بھی دکھانے کے ظفر ہم
یوں ہندی فسادات نے شرمندہ کیا ہے
محمدظفر
القادری ظفرمرکزی
No comments:
Post a Comment