KalematulHaque

اسلامی کوئز، سیرت النبی ﷺ اور تاریخ اسلام کا مرکز

نماز با جماعت کے مقاصد اور فوائد

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
وبعد
نماز باجماعت کے مقاصد اور فوائد
اسلام کا ایک عظیم مقصد اجتماع ہے نہ کہ انتشار آج اس عالم رنگ و بو میں دنیاکا ہر حکمراں اور ہراقتدار اعلی  کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے اندر اجتماعیت پیدا ہو لیکن دنیا کے پاس اس کا اپنا بنایا ہوا ایسا دستور نہیں جس پر اجتماعیت کی بنیاد قائم ہو سکے صرف اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے دنیاکے سامنے ایسا دستور پیش کیاہے جو اجتماعیت کی بنیاد ہے اور اس بنیاد پر اجتماعیت کی عظیم عمارت کھڑی ہو سکتی ہے  تو گویا  جماعت کا قیام اسلام کے عظیم مقاصد میں شامل ہے اور اسی وجہ سے قرآن کریم اور آحادیث کریمہ میں جماعت اور اجتماعیت کا متعدد مقامات پر ذکر آیا ہے جس میں جماعت اور اجتماعیت کرنے کی تاکید کی گئ ہے اور جماعت میں تفریق اور انتشار و تفرقہ سے دور رہنے کا حکم دیا گیاہے جیساکہ حدیث پاک میں آیا ہے
عن عبد الله ابن عمر رضي الله عنهما قال ,قال رسول الله صلى الله عليه وسلم" يد الله مع الجماعة " رواه البخاري
اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے۔ اس عظیم اسلامی مقصد کو مسلمانوں کے قلوب و اذہان میں راسخ  کرنے کیلئے متعدد اجتماعی عبادات کو مشرو ع کیا گیا تاکہ جس سے دنیاں سبق حاصل کرسکے اور اہل اسلام کے اندر اجتماعی شعور پیداہو اور ان کی اجتماعیت کا با ر بار اظہار بھی ہو انہیں میں سے نماز باجماعت بھی ہے
باہمی الفت و محبت
مومن کا ایک دوسرے کے ساتھ لگاؤ اور ربط کا مستقل ہونا یہ اسلام کے عظیم  مقاصد میں شامل ہے اور یہ عظیم مقصد نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کر نے میں پورے طور پہ تکمیل کو پا جاتاہے اس لئے کہ جو جماعت کے ساتھ نماز کو ادا کرتے ہیں ان کو دن بھر میں پانچ مرتبہ اپنے اسلامی بھائیوں سے ملاقات ہوتی ہیں اور احوال زندگی سے متعارف کرانے کا موقع فراہم ہوتا ہے اوراپنے غم و خوشی سنانے کا موقع ملتاہے اور دن بھر میں پانچ مرتبہ پڑوسیوں اور نمازیوں سے ملنے اور حال پوچھنے کا  اتفاق ہوتا ہے  اور یہ بات ظاہر ہے کہ سلام کرنےسے محبت میں اضافہ ہوتاہے  اور روابط و تعلقات مستحکم ہوتے ہیں ،
مساوت اسلامی کا پر کشش نمونہ
مساوات  کا پیدا کرنا اسلام کے عظیم مقاصد میں شامل ہے  جوکہ باجماعت نماز کے اندر مقتدیوں کے درمیان  مساوات کا بہترین مظاہرہ ہے وہ یوں کہ اسلام کے اندر چھوٹے بڑے امیرو غریب شاہ  وگدا سب کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنےکیلئے  صف میں شامل ہونے کا حکم دیا  گیا ۔نسل و خاندان کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی گئی ہے  جس کو جہاں موقع ملے صف کے اندر شامل ہوسکتا ہے  بلکہ امیرو غریب شاہ وگدا سب ایک ہی صف میں کندھے سے کندھا ملاکر نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرتے ہیں    
دینی شعائر کا احترام :
باجماعت نماز اداکرنے سے  ایک عظیم شعار اسلام کی تو قیر کا مظاہرہ ہوتاہے  احترام وتوقیر کے بارے میں ارشاد گرامی ہے
﴿  ذَٰلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ سورۃالحج آیت ﴿32﴾
   ترجمہ: بات یہ ہے اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔﴿کنزالایمان﴾
نمازباجماعت کے فوائد:
نمازکوجماعت کے ساتھ اداکرناضروری ہے اورنمازکوباجماعت ادا کرنے میں متعدد فوائد ہیں ۔ان میں سے چند یہ ہیں
﴿1﴾امرالہی کی بجاآوری:  
نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا یہ امرالہی کی بجاآوری ہے جس کی ادائگی کا قرآن پاک اورآحادیث نبوی میں باربار ذکراورحکم آیاہے ﴿وَأَقيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكاةَ وَاركَعوا مَعَ الرّاكِعينَسورۃالبقرہ آیت ﴿43﴾    ترجمہ: اور نمازپڑھو اورزکوۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ﴿کنزالایمان﴾
 اس آیت کریمہ سے مفسرین اور علماء کرام نے نماز باجماعت کے وجوب پر استدلال فرمایاہے ؛
کامل مومن ہونے کی علامت :
﴿2﴾ اللہ تعالی کے گھروں کو آباد رکھنے کا اہم ذریعہ نمازباجماعت کا اہتمام ہےاگرباجماعت نمازکی پابندی نہ کی جائے تومساجدویران ہوجائیں گے وہ مصلی جو نماز کو جماعت کے ساتھ اداکرتے اورمسجدکونمازوجماعت کے ذریعہ بارونق رکھتے ہیں اس کے متعلق اللہ تعالی ارشادفرماتاہے کہ وہ ایماندارہدایت یافتہ اورفلاح پانے والے ہیں  جیساکہ ارشادربانی ہے
﴿إِنَّما يَعمُرُ مَساجِدَ اللَّهِ مَن آمَنَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الآخِرِ وَأَقامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكاةَ وَلَم يَخشَ إِلَّا اللَّهَ ۖ فَعَسىٰ أُولٰئِكَ أَن يَكونوا مِنَ المُهتَدينَ سورہ توبہ  آیت﴿18﴾
ترجمہ: اللہ کی مسجدیں وہی آبادکرتے ہیں جواللہ اور قیامت پر ایمان لاتے اورنمازقائم رکھتے اورزکوۃ دیتے ہیں اوراللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے توقریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت والوں میں ہوں ﴿کنزالایمان ﴾

نمازباجماعت باعث فضیلت و برکت:
﴿3﴾نمازباجماعت مساجدمیں اللہ تعالی کے ذکرو تسبیح کا ایک ذریعہ ہے اور اس فعل کی خود اللہ رب العزت نے ستائش فرمائی اورذکروتسبیح کرنے والوں کے اوصاف حمیدہ کا تذہ کرتے ہوئے فرمایا   کہ وہ ایسے پاکباز لوگ ہیں جنہیں تجارت اور سوداگری نمازوزکوۃ کی ادائیگی اور اللہ کی یادسے بیگانہ نہیں کرتی وہ صاحب ایمان اور خشیت الہی کے خوگر ہیں ان کی حسنات کو شرف قبولیت سے نوازہ جاتاہے  ان کی سیئات سے در گزر کیا جا تاہے  انہیں قرب خاص حاصل ہوتاہے  اور انہیں پر اللہ تعالی کا فضل و کرم  ہوتاہے  جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے ﴿فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللّهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوّ وَالاَصَالِ﴿36﴾ رِجَالٌ لاّ تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلاَ بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللّهِ وَإِقَامِ الصّلاَةِ وَإِيتَآءِ الزّكَـاةِ يَخَافُونَ يَوْماً تَتَقَلّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالأبْصَارُ﴿37﴾ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُواْ وَيَزِيدَهُمْ مّن فَضْلِهِ وَاللّهُ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴿38﴾ سورہ نور آیت نمبر ﴿36 تا 38
ان گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور ان میں اس کا نام  لیا جا تا ہے اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ان میں صبح اور شام  وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خریدوفروخت اللہ کی یاد اور نماز برپا رکھنے اور زکوۃ دینے سے ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں  تاکہ اللہ انہیں بدلہ دے ان کے سب سے بہتر کام کا اور اپنے فضل سے انہیں انعام زیادہ دے اور اللہ روزی دیتا ہے جسے چاہے بے گنتی   ﴿ترجمہ کنزالایمان ﴾
نمازباجماعت کی فضیلت:
جو جتنا دور سے مسجد چل کر جماعت میں شریک ہوگا اس کا اجر اتناہی زیادہ ہوگا جیساکہ حدیث پاک میں ہے                  
﴿1﴾ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَال الأَبْعَدُ فَالأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرً ﴿ سنن ابی داؤد بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاةِ
ترجمہ-حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو مسجد سے جتنا دور ہوگا اتنا ہی اس کا ثواب زیادہ ہوگا‘‘۔
﴿2﴾ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : صَلاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاتِهِ فِي بَيْتِهِ، وَصَلاتِهِ فِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، وَذَلِكَ بِأَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ وَأَتَى الْمَسْجِدَ لا يُرِيدُ إِلا الصَّلاةَ وَلايَنْهَزُهُ إِلا الصَّلاةُ ثُمَّ لَمْ يَخْطُ خُطْوَةً إِلا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةٌ حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ وَالْمَلائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ، مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ، أَوْ يُحْدِثْ فِيهِ  ﴿ سنن ابی داؤد بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاةِ
ترجمہ-حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’آدمی کی با جماعت نماز اس کے گھر یا بازار کی نماز سے پچیس درجہ بڑھ کرہے، اور یہ اس وجہ سے کہ تم میں سے کوئی جب اچھی طرح وضو کرکے مسجدآئے اور نماز کے علاوہ کوئی اور چیز اس کے پیش نظر نہ رہی ہوتو وہ جو بھی قدم اٹھائے گا اس کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند ہوگااور ایک گنا ہ معاف ہوگا، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جا ئے، پھر جب وہ مسجد میں پہنچ گیا تو نمازہی میں رہا جب تک کہ نماز اسے روکے رہی، اور فرشتے اس کے لئے دعا کر تے ہیں جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نمازپڑھی ہے ،فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی تو بہ قبول فرما،(اور یہ دعا برابر کرتے رہتے ہیں) جب تک کہ اس مجلس میں (جہاںوہ بیٹھا ہے ) کسی کوتکلیف نہ دے یاوضو نہ توڑ دے‘‘۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: حَضَرَ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ الْمَوْتُ فَقَالَ: إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُكُمُوهُ إِلا احْتِسَابًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ، لَمْ يَرْفَعْ قَدَمَهُ الْيُمْنَى إِلا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَسَنَةً، وَلَمْ يَضَعْ قَدَمَهُ الْيُسْرَى إِلا حَطَّ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ عَنْهُ سَيِّئَةً، فَلْيُقَرِّبْ أَحَدُكُمْ أَوْ لِيُبَعِّدْ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فِي جَمَاعَةٍ غُفِرَ لَهُ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ صَلَّى مَا أَدْرَكَ وَأَتَمَّ مَا بَقِيَ كَانَ كَذَلِكَ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا فَأَتَمَّ الصَّلاةَ كَانَ كَذَلِكَ (سنن ابی داؤد بَاب مَا جَاءَ فِي الْهَدْيِ فِي الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاةِ)
ترجمہ- سعید ابن مسیب کہتے ہیں :ایک انصاری کی وفات کا وقت قریب ہواتوانہوں نے کہا:میں تم لوگوں کو ایک حدیث بیان کرتاہوں اور اسے صرف ثواب کی نیت سے بیان کر رہاہوں : میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے سناہے : جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر نمازکیلئے نکلے تووہ جب بھی اپناقدم اٹھاتاہے تواللہ تعالی اس کیلئے ایک نیکی لکھتاہے :اور جب بھی اپنا بیاں قدم رکھتاہے تواللہ تعالی اس کی برائی مٹادیتاہے لہذا تم میں سے جس کا جی چاہے مسجد کے قریب رہےاور جس کا جی چاہے مسجد سے دور رہے :اگر وہ مسجد میں آیا اور اس نے مسجد میں جماعت سے نماز پڑھی تواسے بخش دیاجائے گا  اور اگر وہ مسجد اس وقت آیا  جب کہ (جماعت شروع ہو چکی تھی اور) کچھ رکعتیں لوگوں نے پڑھ لی تھیں اور کچھ با قی تھیں پھر اس نے جماعت کے ساتھ جتنی رکعتیں پائیں پڑھی اور جورہ گئی تھیں بعد میں پوری  کی تو وہ بھی اسی طرح (اجر وثواب کامستحق) ہوگا ، اور اگر وہ مسجد میں اس وقت پہنچا جب کہ  نمازختم ہو چکی تھی اور اس نے اکیلے پوری نمازپڑھی تو وہ بھی اسی طرح ہوگا 
ہر حال میں جماعت کی پابندی کا حکم:
شریعت مطہرہ  میں نماز باجماعت ادا کرنے کی اس قدر اہمیت ہے کہ صرف پرامن حالات میں ہی اس کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ حالت جنگ وجدال اور خوف وہراس میں بھی اس کے اہتمام کا اللہ نے تاکیدا حکم دیتے ہوئے فرمایا    ﴿  وَإِذا كُنتَ فيهِم فَأَقَمتَ لَهُمُ الصَّلاةَ فَلتَقُم طائِفَةٌ مِنهُم مَعَكَ وَليَأخُذوا أَسلِحَتَهُم فَإِذا سَجَدوا فَليَكونوا مِن وَرائِكُم وَلتَأتِ طائِفَةٌ أُخرىٰ لَم يُصَلّوا فَليُصَلّوا مَعَكَ وَليَأخُذوا حِذرَهُم وَأَسلِحَتَهُم ۗ وَدَّ الَّذينَ كَفَروا لَو تَغفُلونَ عَن أَسلِحَتِكُم وَأَمتِعَتِكُم فَيَميلونَ عَلَيكُم مَيلَةً واحِدَةً ۚ  سورہ النساء آیت نمبر﴿102﴾
اور اے محبوب جب تم ان میں تشریف فرما ہو پھر نماز میں ان کی امامت کرو تو چاہیئے کہ ان میں ایک جماعت تمہارے ساتھ ہو اور وہ اپنے ہتھیار لئے رہیں پھر جب وہ سجدہ کرلیں تو ہٹ کر تم سے پیچھے ہوجائیں اور اب دوسری جماعت آئے جو اس وقت تک جماعت میں شریک نہ تھی ﴿ترجمہ کنزالایمان ﴾
ترک جماعت پر وعیدیں :
﴿1﴾ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: يَقُولُ مَا مِنْ ثَلاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلا بَدْوٍ لا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلاةُ إِلا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ .
قَالَ زَائِدَةُ : قَالَ السَّائِبُ: يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِالصَّلاةَ فِي الْجَمَاعَةِ
﴿ سنن ابی داؤد   ،باب في التشديد في ترك الجماعۃ﴾  
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ’’تین آدمی کسی بستی یاجنگل میں ہو ں اور وہ جماعت سےنماز نہ پڑھیں تو ان پر شیطان مسلط ہوجا تا ہے ۱؎ ، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو، اس لئے کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوتی ہے‘‘۔زائدہ کا بیان ہے: سا ئب نے کہا : جماعت سے مراد نمازبا جماعت ہے۔
وضاحت ۱؎ : اس سے معلوم ہوا کہ شیطان اسی کوبہکاتا ہے جو اکیلا ہو، جماعت پر شیطان کا زور نہیں چلتا۔
﴿2﴾ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لايَشْهَدُونَ الصَّلاةَ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ﴿ سنن ابی داؤد   ،باب في التشديد في ترك الجماعۃ﴾ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے سوچا کہ نمازکھڑی کرنے کا حکم دوں، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لو گوں کو نمازپڑھا ئے،اورمیں چند آدمیوں کو لے کر جن کے ساتھ لکڑیوں کے گٹھر ہوں، ان لوگوں کے پاس جاؤں، جو نمازبا جماعت میں حاضر نہیں ہو تے اور ان کے گھروں میں آگ لگا دوں‘‘۔
وضاحتاس حدیث پاک سے نماز باجماعت کی کیااہمیت ہے بخوبی ظاہرہے اور ایک بات یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز کوجماعت کے ساتھ ادانہ کرنا یہ سرکاردوعالم ﷺ کو ناراض کرنا ہے ۔


نماز باجماعت کے متعلق صحابی کا فرمان :
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَافِظُوا عَلَى هَؤُلاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّهِ سُنَنَ الْهُدَى، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلا مُنَافِقٌ بَيِّنُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ، وَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلا وَلَهُ مَسْجِدٌ فِي بَيْتِهِ، وَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صلی اللہ علیہ وسلم لَكَفَرْتُمْ۔﴿ سنن ابی داؤد   ،باب في التشديد في ترك الجماعۃ﴾
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:تم لوگ ان پانچوں نمازکی پابندی کرو جہاں ان کی اذان دی جائے، کیونکہ یہ ہدا یت کی راہیں ہیں؛ اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہدا یت کے طریقے اور راستے مقر ر کردیئے ہیں،اور ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ نماز با جماعت سے وہی غیر حا ضر رہتا تھا جو کھلا ہوا منا فق ہو تاتھا، اور ہم یہ بھی دیکھتے تھے کہ آدمی دوشخصوں کے کندھوں پر ہا تھ رکھ کر چلایا جاتا، یہاں تک کہ اس آدمی کو صف میں لا کر کھڑاکر دیا جا تا تھا، تم میں سے ایسا کو ئی شخص نہیں ہے، جس کی مسجد اس کے گھر میں نہ ہو، لیکن اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہے اور مسجدوں میں نمازپڑھنا چھوڑدیا، تو تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ترک کردیا اور اگر تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ چھوڑدیا تو کافروں جیسا کا م کیا۔


        محمد شہباز احمد     سیتامڑھی ۔بہار