غم نصیبو! بھٹک رہے ہوکہاں ؟
آج کے پر آشوب اور
پرفتن دور میں اس امر پر سب کا اتفاق ہو چکا ہے کہ قوم مسلم تمام اقوام عالم میں
تعلیم کے میدان سب سے زیادہ پیچھے اور نہایت پسماندہ ہے ۔حقیقت تویہ ہے کہ موت اور
علمی زوال کے درمیان بڑی یگانگت پائی جاتی ہے صحیح معنوں میں زندگی علم سے عبارت ہے
علم نہیں تو زندگی بھی نہیں ،تعلیم ہی سے
انسان ترقی کرتاہے علم سے ناآشناانسان جمود وتعطل میں حجر سے کچھ مختلف نہیں ،تعلیم ہی ایک ایسی شئی ہے کہ جس کے ذریعہ
قوموں کے اندر بیداد مغزی پیدا ہوتی ہے ۔تعلیم ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جس ذریعہ
خیروشر کے درمیان خط امتیاز کھینچا جاتاہے ۔تعلیم ہی وہ چیز ہے کہ جس کے ذریعہ
روحوں کے اندر بالیدگی اوردلوں میں تازگی پیداکی جاتی ہے ۔تعلیم ہی وہ شے ہے کہ جس
پر قوموں کے عروج وزوال کا مدار ہے ۔تعلیم ہی وہ روشنی ہے کہ جس کے ذریعہ جہالت کی
گھٹاٹوپ تاریکی کوختم کیاجاتاہے ۔تعلیم ہی سے ذہنوں کے اندر گوں ناگوں تبدیلیاں
صفحئہ وجود میں آتیں ہیں ۔تعلیم ہی وہ چیز ہے کہ جس کے ذریعہ جوانوں کے جوش
اوردلوں میں فراوانی پیداکی جاتی ہے ۔تعلیم ہی وہ گوہر بے مثل ہے کہ جس کے ذریعہ
چہروں پر چھائی ہوئی مردنی کو سرسبز وشادابی میں تبدیل کیا جاتاہے ۔تعلیم ہی وہ
چیز ہے کہ جس کے ذریعہ جسموں پر نہیں دلوں پر حکمرانی کیجاتی ہے ۔تعلیم ہی وہ چیز
ہے کہ جس کے ذریعہ باطل کے چہرہ سے نقاب کشائی کی جاتی ہے ۔تعلیم ہی سے انسان
انسان بنتاہے تعلیم ہی سے خودی فروغ پاتی ہے ۔تعلیم ہی سے انا وتکبر سے دوری
اختیار کی جاتی ہے ۔تعلیم ہی وہ چیز ہے کہ جس کو خالق فطرت نے محمد ﷺ کو سب سے
پہلے عطافرمایا اوراقراء کے عظیم خطاب سے
سرفراز فرماکر علم اور عالم دونوں کے مرتبہ کو بلند فرما یا اقراء کے ذریعہ خطاب
فرماکر علم آگہی کے معیار کو بلند کیا گیا اقرء سے خطاب فرماکر انسان کو یہ مزاج
دیا گیا کہ سردار بننے سے پہلے اور گلہ بانی کرنے سے پہلے علم کا سیکھنابےحدضروری
ہے بغیر علم کے سرداری ممکن نہیں ہے بغیر علم کے گلہ بانی ممکن نہیں ہے اسی لئے
ارشاد فرمایا گیا ،علم کا سیکھنا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے اس ارشاد گرامی میں سب
سے زیادہ قابل غور یہ بات ہے کہ کسی خاص علم کے سیکھنے کی تعلیم نہیں دی گئ بلکہ
عمومیت کے ساتھ تعلیم کی اجازت مرحمت فرمائی گئ یعنی جوبھی علم نافع للدنیا اور
مفید للآخرہ ہو اس کے حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔عزیزو۔ بغیر علم کے
انسانیت کے صحیح خد وخال کو پرکھا نہیں
جاسکتا ہے ۔بغیر علم کے حق اور باطل کے درمیان نشان امتیاز نہیں ظاہر کیا جاسکتا
ہے ۔بغیر علم کے حلال وحرام میں امتیاز نہیں برتا جاسکتا ہے بغیر علم کے کھرے
کھوٹے کو نہیں پہچانا جاسکتا ہے ،علم ہی میزان خیر وشرہے علم ہی معیار حق و باطل
ہے علم ہی ترازو کے صحیح وفساد ہے علم نور ہے جہالت تاریکی ہے علم ترقی ہے جہالت
تنزلی ہے علم زندگی ہے جہالت موت ہے علم موسی ٰ
ہے جہالت فرعون ہے ۔غور کیجئے ، علم سے ہی رفعت ثریا کو ناپا جاسکتا ہے
بلکہ تگ ودد کے میدان میں اس سے آ گے جایا جا سکتاہے ۔علم ہی سے پر پروازجبرئیل کا اندازہ کیا جا سکتاہے ۔۔علم
سے ہی تجلئ طورکی لذت سے آشنائی ہوسکتی ہے
۔علم ہی کے ذریعہ مرتبئہ خلت کے بارے میں سوچاجاسکتا ہے ۔علم ہی کے ذریعہ نظریئہ
انسانیت کی ترجمانی کی جاسکتی ہے ۔علم نقیب شربت ہے یہی وہ در نایاب ہے کہ جس کہ
ذریعہ گیسوئے اقوام عالم کو سنوارا جاسکتا ہے انسانیت کے زلف برہم کو سلجھایا جاسکتاہے علم ہی کے
بارے میں ارشاد فرمایا گیا ۔کیا عا لم وجاہل مساوی ہیں کیا صاحب علم اور جاہل برابر ہوسکتے ہیں
کیا بینا اور نا بینا دونوں یکساں ہیں ۔علم علو انسانیت کی علامت ہے علم کا سیکھنا
قانون فطرت ہے علم سے نافع یاب نہ ہونا دناست ہے علم سے انحراف کرنا خباثت ہے علم
کی توہین کرنا رزالت ہے، جو لوگ تعلیم سے آراستہ نہیں ان کے بارے میں ۔خلیل جبران
کہتے ہیں ۔موت دھوپ میں کھڑے رہنے اور ہوا میں تحلیل ہوجانے کے علاوہ کیا ہے ۔
دادی جانکی نے کہا ہے –سیکھنا اور سیکھانا ایک ہی کھیل کے کھلاڑی ہیں ۔ان میں سے
ایک بھی نابود ہوجائے توسارا کھیل ختم ہوجاتا ہے
۔جیمی ہینڈرکس ۔ نے کہا ہے ، علم بولتا ہے دانشمندی سنتی ہے ، علم سے تغافل
کے وقت آپ کیا کریں گے اس کے متعلق اور بری صحبت کے متعلق – رابن شرمانے کہا ہے آپ
جن لوگون کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ویسے ہی بن جاتے ہیں ،اس لئے اپنا وقت غیر
معمولی ذہن کے مالک لوگوں کے ساتھ گزاریے – ان کے ساتھ بات چیت آپ کو نئے مداروں
میں لے جائے گی ،احساس کمتری کے متعلق
-ولیم جیننگس برے نے کہا ہے قسمت
اتفاق نہیں ہے – یہ انتخاب کا معاملہ ہے – یہ ایسی چیز نہیں جس کا انتظار کیا جائے
– اسے حاصل کیا جاتاہے
علم کی حقیقت
علم استاذ شاگرد کے درمیان ربط لطیف اور تعلق خاص
کا نام ہے ۔ علم جہد مسلسل اور سعئی پیہم
کا نام ہے علم ترقئی انسانیت کا نام ہے علم وراثت پیغمبر کا نام ہے علم جلوۂ
تابانئ عقل کا نام ہے علم معرفت ودانائی کا نام ہے علم حقیقت شئی تک پہنچ جانے
کانام ہے ۔علم ذات اشیاء کی گیرائی کا نام ہے علم معراج بشریت کانام ہے علم شرافت
انسانیت کا نام ہے ۔ علم عظمت آدمیت کا
نام ہے علم ربط باہمی اور تعلقات کے خوشگوار ی استواری کانام ہے ۔علم نفرت وکدورت
اور بغض و حسد سے دوری کا نام ہے علم اخوت ومروت کے حبل متین کانام ہے ۔ دوستو، کل
تک جو قومیں صحیح ڈھنگ سے کھانے کے آداب اور صحیح ڈھنگ سے لباس کے استعمال سے بھی
واقف نہیں تھیں بودو باش کی خوبیوں سے
بھی آشنا نہیں تھیں آج وہی قومیں ضیاء شمس کو مقید کرنے کی باتیں کر رہی ہیں ۔اور
وہ قوم کہ جس نے یورپ کو دولت علم سے مالا مال کیا تھا کھانے کے آداب بتائے تھے
۔بودوباش کی لذتوں سے آشنا کرایا تھا آج پستی کے عمیق غارمیں غوطہ زن ہے ۔جہاں سے
نکلنے کی بظاہر کوئی امید نہیں وہ قوم کہ جس نے اپنا خون جگر پلا کر شمع علم
کو فروغ دیاتھا حکمت وآگہی کے مسند پر دیپ
جلائے تھے آج تنزلی کے انتہائی نازک موڑ پر کھڑی سسکیاں لے رہی ہے ۔اور موت وزیست
کے عالم میں آخری سانسیں لے رہی ہے ۔آہ
۔وہ قوم کہ جس نے پوری دنیا کو علم وآگہی کے گہنوں سے آراستہ کیا تھا آج خود برہنہ
اور عریاں نظر آرہی ہے یہ اس قوم کی زبوں حالی کا تذکرہ ہے جس کے فرزندوں نے کبھی
علوم وفنون اور تحقیقات و اکتشافات کے میدان میں ساری دنیا میں ایک امتیازی مقام
حاصل کیا تھا اور جس کے ایک فرد کے متعلق پیغمبر عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا تھا ۔اگر چہ علم رفعت ثریا پر بھی ہوگا توبھی فارس کا ایک شخص اسے حاصل
کرلے گا ۔لیکن آج یہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے ۔لے گئے تثلیث کے فرزند میراث خلیل ،
محمد شہبازاحمد برکاتی ۔ سیتامڑھی بہار
No comments:
Post a Comment